قرآن پاک کی چار آیات

قرآن پاک کی چار آیات جو انسان کی زندگی بدل دیں

امام جعفر صادق علیہ اسلام ایک مقام پر ارشاد فرماتے ہیں کہ مجھے اس شخص پر تعجب ہوتا ہے جو روز مرہ زندگی میں آنے والی 4 مشکلات ایسی ہیں جن سے پریشان ہوجاتا ہے لیکن قرآن پاک سے پناہ نہیں مانگتا۔ جبکہ قرآن کے چھوٹے چھوٹے جملوں میں ان پریشانیوں کا حل موجود ہے۔

1. جب بھی انسان خوف اور ڈر کا شکار ہو تو قرآن کے اس ذکر سےپناہ کیوں نہیں مانگتا”حسبنا اللہ و نعم الوکیل و نعم المولیٰ و النعم النصیر” امام جعفر فرماتےہیں کہ اس آیت کے بلکل ساتھ والی آیت میں اللہ نے کےاس ذکر کے اثر کو اور فائدے کو بیان کر دیا ہے کہ جو بھی ڈروخوف کے عالم میں اس ذکر کو پڑھے گا تو اللہ ارشاد فرماتا ہے کہ پس وہ اللہ کی نعمت اور فضل سے اپنی منزل پر پہنچائے گا اور کوئی نقصان اس کو نہیں پہنچے گا۔

2.اس کے بعد امام ارشاد فرماتے ہیں کہ جب کوئی غمزدہ ہو پریشان ہوتو مجھے تعجب ہوتا ہے کہ وہ قرآن کے اس ذکر کو کیوں”لاالہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین۔ اس کے بعد امام فرماتے ہیں کہ جو اس ذکر کو پڑھے گا تو اگلی ہی آیت میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس کا فائدہ بیان کر دیا ہے “-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ ” ہم نے انہیں غم سے نجات دے دی۔”

3.اس کے بعد امام نے فرمایا کہ مجھے تعجب ہوتا ہے کہ انسان دوسروں سے دھوکہ کھاتا ہے۔ دوسروں سے دھوکہ اور فریب کھانے سے ڈرتا ہے لیکن قرآن کے اس ذکر کو نہیں پڑھتا “وافوض امري الى الله إن الله بصير بالعباد” اور پھر اس کے بعد والی آیت میں اللہ سبجانہ وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہےکہ جب انسان اس ذکر کو پڑھتا ہے تو اس ذکر کوپڑھنے کے سبب جو اثر انسان کی ذات کے اوپر ہوتا ہے وہ یہ کہ اللہ اس دھوکہ دینے والے کی طرف اس دھوکے پلٹا دیتا ہے

4.اس کے بعد امام نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص دنیا کی حلال نعمتوں اور دنیا کی زینت کو حاصل کرنا چاہتا ہے تو مجھے تعجب ہوتا ہے کہ کہ وہ قرآن کے اس ذکر کو کیوں نہیں پڑھتا جو سورہ مبارکہ کہف میں موجود”مَا شَاء اللَّهُ لا قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ” جو اس ذکر کو پڑھے گا تو اللہ اس کو دنیا کی طیب اور حلال نعمتیں کثرت سے عطا کرے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں